S M USMANI AMAZAI

Thursday, 16 April 2020

Natural marble floor tiles in many respects are the most versatile type of natural stone flooring, available in honed, filled, tumbled, polished and matt finishes. Our range of marble floor tiles has been selected for it's subtlety, making it suitable for a more understated look while still being durable. Not only do we offer the slightly more ostentatious highly polished varieties of marble, but we also offer a range of aged marble. With brushed finish highlights, delicate pits and crevices, and feint coloured veining, marble floor tiles can add visual appeal to any room. With the honed varieties of marble being suited to more contemporary interiors, our range of tumbled marble floor tiles can perfectly compliment the features of a period property. The veining, ranging in colour from cinnamon through to quartz, can add areas of interest, integral to the authentic look of natural stone. With the range of colours and finishes available, natural marble floor tiles really can suit any decor and once sealed and grouted, can withstand family life with ease and is easy to clean. Marble can also add substantial value to your home. The working of the marble tiles requires a special attention during the selection phase, that is the quality check of the materials. The tiles obtained from the best blocks, are finally checked and selected one by one, so as to be able to assure the final Customers a high quality and excellent selection. Pakistan Onyx Marble produce high quality marble tiles. Marble Tiles will be available in different standard sizes as mentioned below: 11.5*11.5 inches 11.5*23 inches 12 * 12 inches 12 * 24 inches 24 * 24 inches 18 * 18 inchesrble floors ke behtreen design





black graynite and ziarat white marble





Thursday, 12 March 2020

Tuesday, 16 October 2018

یونین کونسل ناڑہ امازئی


یونین کونسل ناڑہ آمازٸ ضلع ہری پور کا 44 واں جبکہ تحصیل غازی کا 8 واں یونین کونسل ہے ۔1515  میں جب باباۓ یوسفزٸ ملک احمد حان نے سوات پر حملہ کیا اور مغلوں کو شکست دے کر ریاست سوات کی بنیاد رکھی  تو دوسری طرف کوہ کارگو سے ہوتے ہوۓ ریاست امب تک آمازٸ کا علاقہ قبضہ کیا۔یہ واحد علاقہ ہے جس پر ملک احمد حان بابا کے بعد پاکستان بننے تک کسی نے حکومت نہیں کی۔1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا اور علاقہ آمازٸ کو اس وقت علاقہ غیر تصور کیا جانے لگا۔1952 میں آمازٸ کے غیور عوام نے پاکستان کو ایک ملک کی صورت میں  تسلیم کیا۔اور یوں آمازٸ پاکستان کا باقاعدہ حصہ بن گیا 1992 تک ضلع ایبٹ آباد کے ماتحت رہا۔اور اسکے بعد ضلع ہری پور میں ایک یونین کونسل کی حثیت سے ضم کیا گیا جوکہ ابھی تک ہے ۔زبانیںیونین کونسل ناڑہ آمازٸ میں تقریباً پشتون آباد ہیں ۔جسکی زبان پشتو ہے اسکے علاوہ ہندکو بھی بولی جاتی ہے ۔کاروبار ۔آمازٸ کے لوگ زیادہ تر کیھتی باڑی کا کام کرتے ہیں ۔ملازمت کیلیے لوگ دوسرے شہروں مثلاً کراچی لاہور روالپنڈی جیسے بڑے شہروں کی طرف جاتے ہیں۔تعلیم ۔آمازٸ میں 1 ہاٸ سکول کپڑی میں ہے 1 ہاٸیر سکینڈری سکول ناڑہ میں جبکہ تین مڈل سکول شنگری کالیلاڑ اور گڑھی شاہ محمد میں ہیں۔جبکہ مزید تعلیم کیلیے غازی یا ہری پور جانا پڑتا ہے۔آبادی ۔یونین کونسل ناڑہ آمازٸ کی آبادی 16229 رجسٹرڈ ووٹرز پر مشتمل ہے جوکہ بالترتیب یہ ہیں ۔1 گڑھی شاہ محمد :6222کپلہ +دھڑیاں :6503 بیلہ + زیدہ  :11204 چڑواٸ و دگر مضافات ڈھنڈ کوپر سر گڑھی طوطی گڑھی 25605 ناڑہ :5196 چڑونہ +کوٹو : 9787 کالیلاڑ +جبہ :13798 کپڑی +کرم دین گڑھی+ تھنداری :35549  پربہ +ڈوگہ+کرمو+شیڑگاہ 227910 شنگری+ شلدار بالا 165011 دیگرہ 73012 برنگوال 148ٹوٹل 16229ترقیاتی پس منظر ۔1985 سے پہلے آمازٸ کے لوگ افیم کاشت کرتے تھے اور اسی پہ اپنا گزر بسر کرتے تھے ضیا الحق صاحب کے دور میں افیم کی فصل تلف کردی گٸ تو ہمارے بزرگوں کے ساتھ بڑے بڑے وعدے کیۓ گیۓ کہ بجلی فری ہوگی سڑکیں بنیں گی کسٹم فری یعنی ہر چیز پہ ٹیکس معاف ہوگا لیکن افسوس کہ کوٸ بھی عہد وعدہ وفا نہیں ہوا


Friday, 12 October 2018

ایک بیوی والا مرد

بیچارہ ایک بیوی والا مرد  ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
                                                                       پہلیﺑﯿﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﺗﺠﺮﺑﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺗﯽ ﮬﯿﮟ ،

ﭘﮩﻠﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﻣﺰﺩﺍ 1979 ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ﺗﻮ لینڈ کروزر2018 ﻟﮕﺘﯽ ﮬﮯ ،،
ﺍﺳﭩﺌﺮﻧﮓ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮬﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﮑﮍﺍ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﺮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ ،

ﭘﮭﺮ ﺟﻮﮞ ﺟﻮﮞ ﺗﺠﺮﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺗﻮﺟﮧ ﮈﺭﺍﮨﯿﻮﻧﮓ ﺳﮯ ﮬﭧ ﮐﺮ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮔﺎﮌﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮬﻮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ،
ﺍﺳﭩﯿﺌﺮﻧﮓ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﮬﺎﺗﮫ ﮐﮯ ﺗﺎﺑﻊ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ،
ﮈﯾﻨﭧ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﮩﻠﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﮐﻮ ﭘﮍﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﯿﻘﮧ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﻧﺌﯽ ﺁ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ،

ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ہیر ہی ﻟﮕﺘﯽ ﮬﮯ ،،،
ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﻧﻈﺮ ﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﭩﺘﯽ ،،
ﮬﻤﺎﺭﯼ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﯿﻮﻗﻮﻓﯿﺎﮞ ، ﻧﻔﺴﯿﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺣﻤﺎﻗﺘﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮬﻤﺎﺭﯼ ﮐﻮﭼﻨﮓ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﮯ ،
ﺑﭽﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﺎﻟﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﺎﺅﮞ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮬﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﯾﺘﯽ ﮬﮯ -

ﺟﺐ ﮬﻤﯿﮟ ﺑﯿﻮﯼ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﯿﻘﮧ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﮬﮯ ؟

ﺟﺐ ﺗﮏ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﺑﭽﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﮩﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﭼﺦ ﭼﺦ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﺮ ﮎ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﻝ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ،

22 ﯾﺎ 23 ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﯾﺰﯼ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﯾﮩﯽ ﻭﻗﺖ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻮﻟﻨﮯ ﮐﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ،
ﻭﮦ ﺷﻮﮬﺮ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮬﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻭﮦ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﺮﻏﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ،،

ﻋﯿﻦ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﻏﺮﻕ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ ،
ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻏﺎﻓﻞ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﮯ ،،
ﺍﺳﯽ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺷﻮﮬﺮ ﭘﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﮍﺗﺎ ﮬﮯ ،،

ﯾﮧ ﺩﻭﺭﮦ 40 ﺳﮯ 50 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﭘﺎﮔﻞ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺣﺪ ﺗﮏ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ " Over Forty Syndrome ﮐﮩﺘﮯ ﮬﯿﮟ -
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩ 90 ٪ ﭘﻼﻧﻨﮓ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﮭﺮﮐﺴﯽ ﻧﮧ ﮐﺴﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ،،

99 ٪ ﻣﺮﺩ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮬﯿﮟ ،
ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻗﯽ 1 ٪ ﺟﮭﻮﭦ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮬﯿﮟ ,,

ﮬﺮ ﻣﺮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺎﮬﺪ ﺁﻓﺮﯾﺪﯼ ﭼﮭﭙﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻭﻭﺭﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﮐﺶ ﭼﮭﮑﮯ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﮐﻮ ﺑﯿﺘﺎﺏ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ،،

ﺷﻮﮬﺮ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﯽ ﺍﺳﺘﺤﮑﺎﻡ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺋﻨﺲ ﭘﻮﺍﺋﻨﭧ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ،
ﺟﺒﮑﮧ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﮑﺎﻥ ﺑﻦ ﭼﮑﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﺑﭽﮯ ﮔﺮﯾﺠﻮﯾﺸﻦ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﯾﻮﮞ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮬﮯ ﮐﮧ ﻣﻨﺰﻝ ﻗﺮﯾﺐ ﮬﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺷﻮﮬﺮ ﻓﺮﻧﭧ ﺳﯿﭧ ﭘﺮ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﺑﭩﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ،،

ﺑﯿﻮﯼ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﯽ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮬﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﺭﮬﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ،،

ﺟﺲ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﺰﯼ ﻟﮯ ﺭﮬﯽ ﮬﻮﺗﯽ ﮬﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺑﺎﮬﺮ ﺳﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﻣﻠﺘﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺳﯿﻒ ﺍﻟﻤﻠﻮﮎ ﺳﻤﺠھﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﮭﯿﻞ ﮐﮭﯿﻠﺘﯽ ﮨﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﺗﯽ ﮨﮯ
* ﯾﺎ ﺗﻮ ﮨﺎﺭﭦ ﺍﭨﯿﮏ ﺁﻥ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻓﺎﻟﺞ * ۔

ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﻭﮨﯽ
ﻣﺮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁن پہنچتا ﮨﮯ

ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﻥ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮨﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔

Saturday, 6 October 2018

ایٹمی حملہ کے بعد کیسے بچا جائے؟



                     

                                    ایٹمی حملہ کے بعد کیسے بچا جائے؟


آج کے دور میں انسان کو جس سب سے خوفناک غیر فطری آفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. وه ہے ایک ایٹمی حملہ.
اگر آپ کے شہر پر ایٹم بم گرا دیا جائے. تو بهی آپ زنده بچ سکتے ہیں. کیسے؟
جانیئے اس تحریر میں،
ایٹمی حملے کا خطره کہاں ہے؟
دنیا میں اس وقت 20000 کے قریب ایٹمی ہتهیار موجود ہیں.
جن ممالک میں ایٹمی حملے کا خطر سب سے زیاده ہے وه یہ ہیں
جنوبی کوریا،
شمالی کوریا،
پاکستان،
بهارت،
اسرائیل،
ایران،
اس کے علاوه روس و امریکہ بهی ایٹمی جنگ کا نشانہ بن سکتے ہیں.
دارالحکومت، اہم فوجی چهاونیاں، اہم شہر اور زیاده آبادی والے علاقے ایٹمی حملوں کا اولین نشانہ ہیں.
‏"حالات پر نظر رکهیں":
ایٹمی حملہ جنگ میں ہمیشہ آخری آپشن ہوتا ہے. اپنے ملک اور بین الاقوامی معاملات سے خود کو باخبر رکهیں اور کسی جنگ کی صورت میں پیشگی تدابیر تیار رکهیں.
پناه گاه:
آپ ایٹمی حملے اور اس کے اثرات سے صرف اس صورت میں ہی بچ سکتے ہیں اگر آپ کے پاس ایک مظبوط اور محفوظ پناه گاه موجود ہو.
بہترین پناه گاه زمین سے کم از کم 10 فٹ نیچے تہہ خانے کی صورت میں ہوگی. زمین پر بهی پناه گاه بنائی جاسکتی ہے تاہم وه تابکاری کو مکمل طور پر نہیں روک سکے گی، زمین پر بنائی جانے والی پناه گاه عمارتی پتهروں سے بنائی جانی چاہیے اگر عام اینٹیں اور کنکریٹ کا استعمال کرنا ہوتو پهر اینٹوں کی ایک کے بجائے کم از کم 5 پرتیں لگائی جائیں.
سامان:
اپنی پناه گاه میں اتنا سامان ہمہ وقت سٹور رکهیں جو3,2 ہفتوں کے لیے کافی ہو،
سامان کی تفصیل:
‏1- ٹن پیک کهانا جس میں گوشت کا کوئی آئیٹم شامل نا ہو بلکہ سبزیاں ، پهل اور بینز وغیره هوں تاکه فوڈ پوائزننگ کی اضافی مصیبت سے بچا جاسکے.
‏2- ڈسٹلڈ یا منرل واٹر کی بوتلیں.
‏3-پانی کا ایک بڑا ٹینک جو نہانے وغیره کے کام آئے گا.
‏4- ایک ریڈیو.(آپ کا موبائل تابکاری کے پہلے جهٹکے کے بعد ناکاره ہوجائے گا).
‏5-کپڑوں کا ایک اضافی جوڑا.
‏6- کتابیں، جو کئی دن زیر زمین گزارنے میں معاون ثابت ہونگی.
‏7- فرسٹ ایڈ کٹ.
‏8- ادویات جن میں بخار، سردرد، جسم درد کی گولیاں، سلیپنگ پلز
9-بیٹریز یا بجلی کا متبادل انتظام
ٹارچ
پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی گولیاں
‏(دهماکے کے اول دن استمال کریں)
پینسلین پوٹاشیم
سیفیٹک اینٹی-سیپٹک سپرے
اگر ایٹمی حملہ ہوجائے؟
کسی بهی حادثے یا حملے کی صورت میں زنده بچ جانے کا پہلا اصول اپنے ہوش و حواس کو قابو اور دماغ کو حاضر رکهنا ہے.
ایٹمی حملہ ہونے ایک ایک سیکنڈ کے اندر اندر آپ کو ایک زوردار دھماکہ سنائی دے گا اور فورا "مشروم" کی شکل کا ایک کئی میل اونچا دھویں کا طوفان نظر آئے گا. فورا سمجھ جائیے که یہ ایٹمی حملہ ہے.
اب بچنے کی جدوجہد شروع کیجئے:
ایٹمی تباهی کے تین مراحل ہیں،
ابتدائی دهماکہ.
فال آوٹ
تابکار طوفان
اگر تو ایٹمی وار هیڈ آپ کی لوکیشن کے ڈیرڈھ میل کے اندر اندر گرایا گیا ہے تو فورا کلمه پڑھ لیں اور بیٹهے ہیں تو کهڑے ہوجائیں اگلے تین سیکنڈز کے اندر اندر آپ کا وجود بهاپ بن کے اڑ جائے گا. اگر ایٹمی حملے کے لوکیشن سے ڈیرڈھ میل دور ہے تو آپ بچ سکتے هیں.
پهلا دهماکہ سنائی دینے کے بعد آپ کے پاس زیاده سے زیاده 5 سیکنڈزہیں. دهماکے کی مخالف سمت میں کسی بهی ٹهوس چیز ، دیوار یا کسی گہری جگہ پہنچیں ، زمین پر الٹا لیٹ جائیں، اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکهتے ہوئے کانوں کو ڈهانپ لیں اور ٹانگیں کراس کرلیں، اسی دوران آپ کو ایک اور زور دار دهماکہ سنائی دے گا جو کے پهلے دهماکے سے سوگنا زیاده طاقتور ہوگا اور شدید زلزله پیدا کرے گا. مبارک ہو! آپ ابتدائی دهماکے سے بچ نکلے.
دهماکہ سنائے دینے کے دو سے تین سیکنڈ اٹھ کهڑے ہوں اور اپنی پناه گاه کیطرف بهاگیں.
فال آوٹ:
پهلے دماکے میں ناصرف سینکڑوں عمارات دهواں بن کے اڑ گئیں جو جن کا ملبہ اب بارش کی صورت میں برسے گا اور ساتھ ہی تابکاری سے بهرے "الفا پارٹیکلز" کی بارش بهی شروع ہوجائے گی. دهماکے کی طرف ہرگز مت مڑکے دیکهیں. اور فال آوٹ میں گرتی چیزوں سے بچنے کی کوشس کریں.
اگر آپ صحیح سلامت پناه گا تک پهنچ گئے تو مبارک ہو! آپ فال آوٹ سے بچ نکلے.
پناه گاه میں داخل هوتے ہی ایک لمحه ضائع کیے بغیر اپنا سارا لباس اتار دیں کیونکہ فال آوٹ کے دوران یہ بڑی مقدار میں الفا پارٹیکلز چوس چکا ہوگا. اس کے بعد اگر آپ زخمی ہیں تو خود ابتدائی طبی امداد لیں اگر صحیح سلامت ہیں تو غسل کرلیں تاکہ فال آوٹ کے بچے کهچے اثرات سے ہرممکن حد تک بچا جاسکے.
اب زمین پر ہر طرف تابکاری کا طوفان ہے اور آپ کو پناه گاه میں کئی دن تک رہنا ہے.‏
یاد رکهیں:‏
‏1-کم سے کم کهائیں.‏
‏2- جتنا ممکن ہوسکے سوکر وقت گزاریں.‏
‏3- ریڈیو سنتے رہیں اور باهر کے حالات سے باخبر رہیں.‏
‏4-اپنی ہمت بحال رکهیں.‏‎
‏5- اگلے چند دن میں آپ ریڈیو ایکٹو سکنس کا شکار ہوسکتے ہیں جس میں آپ کو تیز بخار، گهٹن، الٹیاں ہوسکتی ہیں. اپنے پاس موجود ادویات کو استعمال کریں.
دهماکے کے زیاده سے زیاده 5 دنوں بعد امدادی ٹیمیں اور فوجی دستے آپ کے علاقے میں پهنچ جائیں گے.ریڈیو سنتے ریہں جب آپ کو یقین هوجائے کے آپ کے علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں تو باهر نکل کر قریب ترین امدادی کارکن سے فوری رابطہ کریں تاکہ آپ کو تابکاری کے علاقے سے فوری طور پر نکالا جاسکے.
اگر تو کوئی امدادی ٹیم آپ تک نا پہنچ سکے تو بیس دن بعد پناه گاه سے نکلیں. اب تک تابکاری کا طوفان تهم چکا ہوگا.
زندگی کی طرف سفر........
پناه گاه سے نکلتے ہی ممکن آپ کو پہلا احساس یہی ہو کہ لاکهوں میں سے صرف آپ ہی زنده بچے ہیں. اب جس قدر جلدی ممکن ہو علاقہ چهوڑدیں.

نوٹ ۔۔۔ " معلومات زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچائیں ۔۔ جزاک اللہ خیر"

Monday, 17 September 2018

How to create Facebook page


اولین دنگل


حق و باطل کا پہلا تاریخ ساز معرکہ
”غزوہ بدر“ سلسلہ غزوات میں اسلام کا سب سے پہلا اور عظیم الشان معرکہ ہے۔ غزوئہ بدر میں حضور سید عالمﷺ اپنے تین سو تیرہ (313) جانثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ آگے دو سیاہ رنگ کے اسلامی پرچم تھے، ان میں ایک حضرت سید نا علی المرتضی کرم اﷲ وجہہ کے ہا تھ میں تھا ۔ جب رزم گاہ ِبدر کے قریب پہنچے تو امام المجاہدین حضور سرور دو عالم ﷺ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو منتخب جان بازوں کے ساتھ ”غنیم“ کی نقل و حرکت کا پتہ چلانے کے لئے بھیجا، انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی۔

17 رمضان المبارک،جمعتہ المبارک کے دن جنگ بدرکی ابتداءہوئی۔”بدر“ ایک گاﺅں کا نام ہے، جہاں ہر سال میلہ لگتا تھا۔ یہ مقام مدینہ طیبہ سے تقریباً اسی (80)میل کے فاصلے پر ہے۔ جہاں پانی کے چند کنویں تھے اور ملک شام سے آنے والے قافلے اسی مقام پر ٹھہرا کرتے تھے۔ حضور سید عالم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جب ہجرتِ مدینہ فرمائی تو قریش نے ہجرت کے ساتھ ہی مدینہ طیبہ پر حملے کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔

اسی اثناءمیں یہ خبر بھی مکہ معظمہ میں پھیل گئی تھی کہ مسلمان قریش مکہ کے شام سے آنے ولے قافلے کو لوٹنے آرہے ہیں۔ اور اس پر مزید یہ کہ عمروبن حضرمی کے قتل کا اتفاقیہ واقعہ بھی پیش آگیا۔ جس نے قریش مکہ کی آتش غضب کو مزید بھڑکادیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کو جب ان حالات کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور امر واقعہ کا اظہار فرمایا۔حضرت ابوبکر صدیق اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب میں نہایت جانثارانہ وفدایانہ تقریریں کیں۔ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ (خزرج کے سردار) نے عرض کی کہ ”یا رسول اﷲ ﷺ ! خدا کی قسم ! اگر آپ حکم فرمائیں تو ہم سمندر میں کودنے کو تیار ہیں۔بہ قول حفیظ جالندھری
نبی کا حکم ہو تو کود جائیں ، ہم سمندر میں
اور جہاں کو محو کردیں نعرئہ اﷲ اکبر میں

حضرت مقدادرضی اللہ عنہنے کہا کہ ” ہم موسیٰ علیہ السلام کی امت کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب خود جاکر لڑیں، ہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں سے بائیں سے، سامنے سے اور پیچھے سے لڑیں گے پھر آپ نے اعلان کیا کہ ہم لوگ واقعی آپ کے تابعدار ہوں گے، جہاں آپ ﷺ کا پسینہ گرے گا وہاں ہم اپنا خون بہادیں گے۔ آپ ﷺ بسم اﷲ کیجئے اور جنگ کا حکم فرمائیں، ان شاءاﷲ اسلام ہی غالب آئے گا۔بقول شاعر
غلامانِ محمد جان دےنے سے نہیں ڈرتے
یہ سر کٹ جائے یا رہ جائے، پروا نہیں کرتے

حضورسرکارِدو عالمﷺ نے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس جذبہ سر فروشانہ اور جوش ِایمانی کو دیکھا تو آپ کا چہرئہ اقدس فرط ِمسرت سے چمک و دمک اٹھا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا چہرئہ مبارکہ آسمان کی طرف اٹھاکر ان سب کےلئے بارگاہِ خداوندی میں دعاءخیر فرمائی۔

اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ” خداوند قدوس نے مجھے قافلہ و لشکر میں سے کسی ایک پر فتح عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ بلا شبہ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قسم بہ خدا! میں ابھی سے کفار کے سرداروں کی قتل گاہ دیکھ رہا ہوں....پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس جگہ فلاں کافر قتل ہوگا، اس جگہ فلاں کا فر قتل ہوگا۔ آپ ﷺ نے مقتولوں میں سے ہر ایک کامحل قتل بتادیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جہاں جہاں حضورﷺ نے فرمایاتھا، وہ کافر وہاں ہی قتل ہوا۔(مشکوٰة/مدارج النبوت)

لشکر اسلام کی تعداد
حضور سید عالمﷺ 12رمضان المبارک 2 ہجری کو اپنے تین سو تیرہ (313) جانبازو جا نثار ساتھیوں کو ساتھ لے کر میدانِ بدر کی طرف روانہ ہوئے۔ جب آپ ﷺ اپنے مختصر سے لشکر کو لے کر مدینہ طیبہ سے تھوڑی دور پہنچے تو آپ ﷺنے جیش اسلام کا جائزہ لیا اور جواس کارواں میں کم سن اور نوعمر تھے، انہیں واپس فرما دیا۔ حضرت عمیر بن ابی وقاص ایک کم سن سپاہی بھی شامل تھے، انہیں جب واپسی کےلئے کہا گیا تو وہ روپڑے، حضور ﷺ نے ان کا یہ جذبہ جہادوشوقِ شہادت دیکھ کر انہیں شاملِ جہاد رہنے کی اجازت عطا فرمادی۔ لشکر اسلام کی کل تعداد 313 تھی ، جس میں سے 60 مہاجرین او ر 253 انصار تھے۔
چلتے چلتے یہ بے نظیر و بے مثال لشکر 16رمضان المبارک بہ روز جمعرات 2 ہجری کو میدان بدر پہنچ گیا۔ ادھر مکہ معظمہ سے قریشِ مکہ بڑے سازوسامان کے ساتھ نکلے تھے ۔ ایک ہزار آدمیوں کا لشکر تھا ۔ سو سواروں کا رسالہ تھا۔ رﺅسائے قریش سب شریکِ جنگ تھے اور اُمرائِ قریش باری باری ہر روز دس دس اونٹ ذبح کرتے تھے ۔ عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا سب سے معزز رئیس تھا ،اپنی اس طاغوتی فوج کا سپہ سالار بنایاگیا تھا۔

17رمضان المبارک کی مبارک شب تھی، تمام مجاہدینِ اسلام آرام کر رہے تھے جبکہ حضور رحمت دو عالمﷺ نے ساری رات عبادت و ریاضت اور دعا میں گزاری صبح کو نماز فجر کیلئے تمام سر فروشان اسلام مجاہدین کو بےدارکیااور نمازِ فجر کی ادائیگی کے بعد قرآن مجید کی”آیاتِ جہاد“ تلاوت فرما کر ایسا لرزہ خیز اور ولولہ انگیز خطاب فرما کر مجاہدینِ اسلام کی رگوں میں خون کا قطرہ قطرہ جوش وجذبہ کا سمند ر بن کر طوفانی موجیں مارنے لگا اور مجاہدین جلد ازجلدجنگ کیلئے تیار ہونے لگے۔

صف آرائی کا دل نشین منظر
حضور نبی کریم ﷺ کے دست اقدس میں ایک تیر تھا، اس کے اشارے سے آپ ﷺ مجاہدین کے صفیں قائم فرمارہے تھے۔ ”مہاجرین“ کا علم وپرچم حضرت مصعب بن عمیر کو، ”خزرج“ کے علمبردار حباب بن منذر اور ”اوس“ کے علمبردار سعد بن معاذ مقرر فرمائے۔چنانچہ لشکر اسلام کی صف آرائی ہوئی اور مشرکین مکہ بھی مقابل میں صفیں باندھے کھڑے تھے.... ایسا دل کش نظارہ کبھی زمین و آسمان نے نہیں دیکھا تھا کہ: ایک طرف وہ مشرکین تھے جن کے سر اﷲ وحدہ لا شریک کے سامنے تو نہیں جھکتے تھے، مگر اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ بتوں کے سامنے خم ہوجاتے تھے.... وہ مشرکین تھے جو سر سے لے کر پاﺅں تک تکبر و غرور سے بھر پور تھے ....اور دوسری طرف وہ مومنین کامل تھے، جن کے دل ایمان و ایقان کے نور سے روشن تھے....وہ مﺅمنین تھے جو چٹانوں سے زیادہ مضبوط اور پہاڑوں سے زیادہ بلند عزائم رکھتے تھے.... وہ صاحبان ایمان و ایقان تھے، جن کے پاس صرف اور صرف دو گھوڑے،چھ زر ہیں اور آٹھ شمشیریں تھیں....وہ مومنین تھے ، جو دنیا بھر کی تقدیر پلٹنے آئے تھے۔
کھڑے تھے اس طرف سب نفس و شیطان کے بندے
صفیں باندھے کھڑے تھے اس طرف رحمان کے بندے

یعنی اُدھر بت پرست تھے،اِدھرحق پرست تھے.... اُدھر کافر تھے، اِدھر مومن تھے .... اُدھر ظلمت تھی اِدھر نور تھا....اُدھرظلم وجفا والے تھے،اِدھر صدق ووفا والے تھے.... ادھر سازوسامان والے تھے،ادھر ایمان ایقان والے تھے.... ادھرجہنمی تھے،ادھر جنتی تھے....ادھر اہل شیطان تھے،ادھر اہل رحمان تھے.... اُدھر انسانیت کے تخریب کار تھے، اِدھر انسانیت کے معمار تھے.... اُنہیں سامان ِحرب و ضرب پر ناز تھا، اِنہیں تاج دار عرب و عجم پر ناز تھا۔ اُنہیں نیزے و تلوار پر بھروسہ تھااور اِنہیں کالی کملی والے پربھر وسہ تھا۔یہ منظر بڑا ہی عجیب و غریب تھا کہ اتنی بڑی وسیع دنیا میں توحید کی قسمت چند جانوں پر منحصر تھی۔

چنانچہ حضور سید عالمﷺ نے میدانِ بدر میں اپنے جانثار و جانباز اور وفادار سپاہیوں کو دیکھا اور ان کی قلیل تعداد اور بے سرو سمانی کو بھی دیکھا تو اپنے یداﷲ والے گورے گورے ہاتھوں کو پھیلا کر بارگاہِ خداوندی میں یوں التجاءکی: ”اے اﷲ! تو نے مجھ سے جو وعدہ فرمایا ہے، وہ پورا فرما، اے اﷲ.... اگر آج یہ مٹھی بھر نفوس ہلاک ہوگئے تو پھر قیامت تک تمام روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا“ ۔(صحیح بخاری ۔ صحیح مسلم، جامع ترمذی۔ مسند امام احمد)

حضور سرور دو عالمﷺ کچھ اس طرح خشوع وخضوع سے دعاءکررہے تھے کہ آپ ﷺ کی چادر مبارک آپ کے دوش اقدس سے گرگئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چادر مبارک اٹھا کر آپ ﷺ کے کاندھے مبارک پر ڈال دی اور عرض کی کہ یا رسول اﷲﷺ! اب بس کیجئے، اﷲ تعالیٰ نے جو فتح عطا کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، وہ ضرور پورا فرمائے گا۔(البدایہ والنہایہ)

یوم بدر....یوم الفرقان
مورخین اس معرکہ کو ”غزوئہ بدر الکبریٰ“ اور غزوئہ بدرالعظمٰی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں لیکن اﷲتبارک و تعالیٰ نے اپنے لاریب اور لا فانی کلام قرآنِ مجید میں اس معرکہ کو ”یوم الفرقان“ (یعنی حق و باطل میں درمیان فرق کرنے والے دن) کے نام سے تعبیر فر مایا ہے، یعنی یہ وہ دن ہے جب حق و باطل، خیر و شر اور کفر و اسلام کے درمیان فرق آشکارا ہوگیا اور اقوامِ عالم کو بھی پتہ چل گیاکہ حق کا علم بردار کون ہے اور باطل کا نقیب کون ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے”اگر تم اﷲ پر ایمان رکھتے ہو اور اس (چیز) پر جو ہم نے اپنے (محبوب) بندے پر نازل فرمائی، جس دن دو لشکر مقابل (آمنے سامنے) ہوئے اور اﷲ ہر چیز پر قادر ہے“۔(سورة الانفال:آےت۱۴)

٭فرزندانِ توحید کی سر فروشی:
دستور عرب کے مطابق جب جنگ کی ابتداءہوئی تو مشرکین میں سے عتبہ بن ربیعہ اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید بن عتبہ کے ساتھ میدانِ کارِ زار میں نکلا۔ مبارزت طلب کرنے لگا تو لشکر اسلام میں سے حضرت امیر حمزہ، حضرت علی المرتضی اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہم، عتبہ ،ولید اور شیبہ کے مقابل ہو ئے اوریوں دست بہ دست جنگ شروع ہوئی توحضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن ربیعہ کو واصل جہنم کردیا۔ جب کہ حضرت علی حیدر کراررضی اللہ عنہ نے ولید بن عتبہ کو جہنم رسید کیا، جب کہ حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ شیبہ کے ہاتھوں زخمی ہو گئے، یہ دیکھ کر شیر خدا حضرت علی المرتضی آگے بڑھے اور اپنی ضربِ حیدری کے ایک ہی وار سے شیبہ بن ربیعہ بھی کو جہنم رسید کردیا۔ تینوں مشرکین سرداروں کی لاشیں زمین پر ڈھیر پرہو گئیں۔

اسلام اور کفر کے مابین پہلی باقاعدہ جنگ کا آغاز اس حسین اور دل نشین انداز میں ہوا کہ روحِ عالم کو وجد آگیا.... حسن فطرت پر نکھارآگیا.... حق و صداقت کا سر فخر سے بلند ہوگیا....باطل کا سر ندامت سے جھک گیا.... اور آنِ واحد میں مشرکین کے تین سور ماﺅ ں کے قتل سے ہل چل مچ گئی۔ کیونکہ قریش کے جب یہ تینوں سرداروں کو اسلام کے شاہینوں نے موت کے گھاٹ اتاردیا تو اس اندیشہ سے کہ کفار حوصلہ نہ ہاردیں، ابوجہل نے بلند آواز سے یہ نعرہ لگایا.... لنالعزیٰ و لاعزیٰ لکم....(ہمارا مددگار عزیٰ ہے اور تمھارے پاس کوئی عزیٰ نہیں جو تمھاری مدد کرے)حضور سید عالمﷺ نے فرزندانِ توحید کو حکم دیا کہ اس کے جواب میں یہ نعرہ بلند کریں۔

اللہ مولاناولا مولا کم قتلا نا فی الجنتہ و قتلا کم فی النار....”یعنی اﷲ ہمارا مددگار ہے اور اور تمہارا کوئی مددگارنہیں ہے ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے مقتول جہنم کاایندھن بنیں گے۔

اس کے بعد پھر عام لڑائی شروع ہوگئی تو حضورکرمﷺ نے باہر نکل کر ایک مٹھی کنکروں کی اٹھائی اور لشکر کفار کی طرف پھینکی اور فر مایا” شاھت الوجوہ“ ”برے ہوگئے یہ چہرے “۔ چنانچہ کوئی کافر ایسانہیںبچا جس کی آنکھوں اور ناک وغیرہ میں ان سنگریزوں سے کوئی چیز نہ پہنچی ہو۔یہ سنگریزے نہیںتھے بلکہ اسلامی”ایٹم بم“ تھے کہ جو ہر ایک کافرفوجی کو لگے اور ان کی قوت و طاقت بالکل ٹوٹ گئی اور لشکر کفار میں بھگدڑ مچ گئی۔

چنانچہ قرآن پاک میں اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ان کنکریوں کا مارنا یوں بیان فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:” اور (اے حبیبﷺ!) آپ نے (حقیقتاً وہ خاک) نہیں پھینکی، جس وقت (بہ ظاہر) آپ نے (خاک) پھینکی تھی، لیکن وہ (خاک) اﷲ تعالیٰ نے پھینکی“۔۔(سورة الانفال: 17)

جب دست بہ دست عام لڑائی شروع ہوگئی تو لشکر اسلام کا ہر سپاہی پورے جوش وجذبہ کے ساتھ لڑ رہاتھا اور سر دھڑ کی بازی لگا رہاتھا۔ اسلام کا ایک ایک سپاہی کفار کے بیسیوں سپاہیوں پر بھاری تھا اور ان کو جہنم رسید کر رہاتھا اےسے ہی جا نباز و جانثار اپنی شجاعت و بہادری اور جذبہ جانثاری کی وجہ سے اور اپنے ملک و ملت اور مذہب پرپروانوں کی طرح اپنی قیمتی جان قربان کرکے اﷲ تعالیٰ کے دربار میں سر خرو ہوتے ہیں۔

٭مسلمانوں کی شاہکاراورتاریخی فتح:
میدانِ بدر میں لشکر اسلام کے پاسبان و محافظ اور جان بازو جان نثار سپا ہی کچھ اس بے جگری سے لڑے کہ تھوڑے ہی عرصے میں کفار کی کثرت کو کچل کر واصل جہنم کردیا۔ حضور نبی کریم ﷺ کی مستجاب دعاﺅں کے صدقے اور طفیل اور خدائے رب ذوالجلال کی تائید و نصرت کی بہ دولت کفار کو ایسی شکست فاش ہوئی کہ جس کی مثال تاریخ عالم پیش کرنے سے قاصر ہے۔

کفار کے تقریبا ًستر(70 ) آدمی قتل ہوئے اور70 افراد کو قیدی بنادیا گیا اور کفار کے وہ سردار جو شجاعت و بہادری میں بے مثال سمجھے جاتے تھے اور جن پر کفار مکہ کو بڑا ناز تھا، وہ سب کے سب مسلمان مجاہدوں کے ہاتھوں مقتول ہو کر دوزخ کا ایندھن بن گئے اور جو کافر زندہ رہ گئے، وہ میدان چھوڑ کر ایسے بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا اور سیدھا مکہ میں اپنے گھروں میں جاکر دم لیا۔ لشکر اسلام میں سے صرف ( (14خوش نصیب سر فروش مجاہدں نے شہادت کا عظیم منصب حاصل کیا اور جنت الفردوس میں داخل ہوگئے، جن میں سے چھ (6) مہاجرین اور آٹھ (8) انصار تھے۔
جنگ بدر کی عظیم الشان فتح کے بعد مدینہ منورہ اورگردو نواح کے دشمنانِ اسلام بڑے خوفزدہ ہوئے جس سے مسلمانوں کو او ر اسلام کو بہت بڑی زیادہ قوت وتقویت ملی۔ اس جنگ کی عظیم فتح نے مسلمانوں کے قدم انتہائی مضبوط ومستحکم کر دےئے اور دینِ حق کی سر بلندی اور استحکام کا خواب بہت جلد شرمندہ تعبیر ہوا۔